ابنا: مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ معرکے کا ایک پہلو یہاں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا بھی ہے۔ اسرائیل مسجد اقصی کے اطراف پھیلے اس بابرکت شہر کی آبادی کو اپنے حق میں کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کی شہریت حاصل کرنے والے اس کو تسلیم کرنے والوں اور شہر میں اسرائیلیوں شہریوں کی تعداد میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ اس طرح اسرائیلی شہریت حاصل کرنے والے مسلمانوں کے مقدس شہر پر اسرائیلی قبضے میں مددگار بن رہے ہیں۔
مسجد اقصی میں جمعہ کے خطاب کے دوران شیخ صبری نے واضح کیا کہ سن 1948ء سے اسرائیلی زیر قبضہ فلسطین میں بسنے والے ہمارے بھائی تو اسرائیلی شہریت حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور ضرورت کے وقت ممنوع چیز کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے۔
قبلہ اول کے خطیب نے عیسویہ گاؤں پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور ایک ماہ سے زائد عرصے سے اس گاؤں کے محاصرے اور یہاں کے باسیوں کی گرفتاریوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر خطیب مسجد اقصی نے فلسطینیوں کی جانب سے مجوزہ یہودی بستی کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے ''باب الشمس'' خیمہ بستی لگانے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہودی آباد کاری کا سرطان آہستہ آہستہ فلسطینی اراضی کو اپنی لپیٹ میں لیتا جارہا ہے جس کے آگے بند باندھنا انتہائی ضروری ہے۔
.....
/169